سولر

پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ: درخواست کا عمل کیسے کام کرتا ہے

نیپرا نے فروری 2026 میں نیٹ میٹرنگ منسوخ کر کے نیٹ بلنگ نافذ کر دی۔ اس کا واپسی کے حساب پر کیا اثر ہے اور طریقۂ کار اب کیا ہے۔

اس صفحے پر

نیٹ میٹرنگ منسوخ — اب کیا لاگو ہے

2015 کا نظام اب موجود نہیں

9 فروری 2026 کو نیپرا نے پروزیومر ریگولیشنز 2026 جاری کیے، جو فوری نافذ ہوئے اور جنہوں نے 2015 کے نیٹ میٹرنگ قواعد منسوخ کر دیے۔ جو مضمون یونٹ کے بدلے یونٹ کی بات کرے، یا 2026 کے قواعد کا ذکر کیے بغیر کوئی مقررہ خریداری ریٹ بتائے، وہ منسوخ شدہ قواعد بیان کر رہا ہے۔

اس کی جگہ نیٹ بلنگ آئی ہے۔ اب دونوں سمتوں کی قیمت الگ ہے: کمپنی جو بجلی آپ کو دیتی ہے وہ لاگو صارف ٹیرف پر بل ہوتی ہے، اور آپ جو بجلی کمپنی کو دیتے ہیں اس کا کریڈٹ قومی اوسط انرجی پرچیز پرائس پر ملتا ہے — یعنی تھوک قیمت، جو آپ کی خریداری کے نرخ سے کہیں کم ہے۔ سائیکل کے آخر میں بچت اگلے بل پر کریڈٹ ہوتی ہے یا سہ ماہی ادا کی جاتی ہے۔

نیچے دیے گئے حساب کے لیے یہ گائیڈ برآمد شدہ یونٹ کو تقریباً 11 روپے فی یونٹ رکھتی ہے، مگر یہ نرخ قواعد میں طے شدہ نہیں اور نیپرا نوٹیفکیشن سے بدل سکتی ہے۔ اصل بات طریقۂ کار ہے، عدد نہیں۔

پرانے صارفین کا معاہدہ برقرار، بلنگ نہیں

2015 کے تحت کیے گئے معاہدے منسوخی کے باوجود قائم ہیں، مگر ان کی بلنگ نفاذ کے بعد والے سائیکل سے نئے نظام پر منتقل ہو جاتی ہے۔

زیادہ استعمال پر سولر زیادہ فائدہ مند کیوں ہے

پاکستان میں بجلی بڑھتے ہوئے سلیب پر بل ہوتی ہے، اس لیے جتنا زیادہ استعمال ہو، ہر اضافی یونٹ اتنا ہی مہنگا پڑتا ہے۔ سولر کا ہر یونٹ سب سے پہلے آپ کا مہنگا ترین یونٹ بچاتا ہے۔

بچائے گئے یونٹ کی اصل قیمت
ماہانہ یونٹسمؤثر فی یونٹ لاگت
200Rs 14.45
400Rs 35.70
600Rs 39.24
900Rs 43.87

ماہانہ 300 یونٹس سے کم پر حساب عموماً پورا نہیں پڑتا

محفوظ صارف سستے یونٹس بچا رہا ہوتا ہے، اس لیے لاگت کی واپسی کی مدت بہت لمبی ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں سولر بنیادی طور پر ان گھرانوں کے لیے موزوں ہے جن کا بل مسلسل 300 سے 400 یونٹس سے اوپر رہتا ہے۔

درخواست کا طریقہ کار

  1. 1

    کنکشن کی اہلیت

    نیٹ میٹرنگ کے لیے عام طور پر تھری فیز کنکشن درکار ہوتا ہے اور منظور شدہ لوڈ سسٹم کے سائز سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

  2. 2

    AEDB سے تصدیق شدہ انسٹالر

    تصدیق شدہ وینڈر کی درخواست معمول کے مطابق پراسیس ہوتی ہے۔ سرٹیفکیشن نمبر ضرور مانگیں۔

  3. 3

    درخواست جمع

    انسٹالر آپ کی جانب سے کمپنی کو سسٹم کی تفصیلات، بل اور شناختی کارڈ کے ساتھ درخواست دیتا ہے۔

  4. 4

    تکنیکی معائنہ

    کمپنی تنصیب کا معائنہ کرتی ہے۔ یہیں پائی جانے والی خامیاں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہیں۔

  5. 5

    معاہدہ اور دو طرفہ میٹر

    منظوری کے بعد معاہدہ ہوتا ہے اور ایسا میٹر لگتا ہے جو درآمد اور برآمد دونوں ریکارڈ کرے۔

میٹر تبدیل ہونے سے پہلے سسٹم نہ چلائیں

دو طرفہ میٹر لگنے سے پہلے بجلی پیدا کرنے سے میٹر غلط ریکارڈ کر سکتا ہے، جس کا نتیجہ کریڈٹ کے بجائے ڈٹیکشن بل کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

نیٹ میٹرنگ سے متعلق سوالات

کیا سولر لگانے کے بعد بھی بل آئے گا؟

جی ہاں۔ مقررہ چارجز، میٹر کرایہ اور ٹی وی فیس بہرحال لاگو رہتے ہیں، اور رات کو آپ گرڈ سے بجلی لیتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ بل کم کرتی ہے، ختم نہیں کرتی۔

کیا سولر لوڈ شیڈنگ میں کام آتا ہے؟

خود سے نہیں۔ عام آن گرڈ سسٹم بجلی بند ہونے پر حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند ہو جاتا ہے۔ بندش کے دوران بیک اپ کے لیے بیٹری درکار ہوتی ہے، جو الگ اور کہیں مہنگا فیصلہ ہے۔

منظوری میں کتنا وقت لگتا ہے؟

2026 کے قواعد نے ہر مرحلے کی مدت مقرر کی ہے: درخواست کی وصولی پانچ کام کے دن، معاہدہ سات، کنکشن چارج تخمینہ سات، ادائیگی کے بعد تنصیب پندرہ، اور نیپرا کی رضامندی سات کام کے دن۔ یعنی مہینوں کے بجائے ہفتوں کا معاملہ — اور جو مرحلہ مدت سے آگے نکلے اس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔

نیٹ میٹرنگسولرنیپرا

اپنا بل ابھی چیک کریں

متعلقہ گائیڈز

تمام گائیڈز