گیس

ایس ایس جی سی گیس بل چیک

ایس ایس جی سی (سوئی سدرن گیس کمپنی) سندھ اور بلوچستان کو قدرتی گیس فراہم کرتی ہے، اور 1954 سے کام کر رہی ہے۔

قیام: 19541199

ایس ایس جی سی ایک نظر میں

پورا نام
سوئی سدرن گیس کمپنی
قیام
1954
ہیلپ لائن
1199
سروس ایریا
سندھ اور بلوچستان
نمبر کی شکل
کنزیومر نمبر
ریگولیٹر
اوگرا

ایس ایس جی سی کیا ہے اور کن علاقوں کو بجلی دیتی ہے؟

ایس ایس جی سی سندھ اور بلوچستان بشمول کراچی میں قدرتی گیس فراہم کرتی ہے۔

ایس ایس جی سی کن اضلاع کا احاطہ کرتی ہے؟

ایس ایس جی سی کا سروس ایریا سندھ اور بلوچستان پر مشتمل ہے۔

ایس ایس جی سی کیسے وجود میں آئی؟

ایس ایس جی سی کی بنیاد 1954 میں رکھی گئی، 1952 میں بلوچستان میں سوئی گیس فیلڈ کی دریافت کے صرف دو سال بعد۔ 1989 میں اسے موجودہ شکل میں دوبارہ منظم کیا گیا اور یہ ملک کے جنوبی نصف کے لیے مخصوص گیس یوٹیلیٹی کے طور پر کام کرتی ہے۔

ایس ایس جی سی کا نیٹ ورک کہاں تک پھیلا ہے؟

ایس ایس جی سی کا نیٹ ورک اصل سوئی فیلڈ اور کراچی کی بڑی صنعتی و سی این جی طلب کے قریب واقع ہے، ساتھ ہی کراچی کے ساحل پر ایل این جی درآمدی ٹرمینلز بھی نیٹ ورک کو گیس فراہم کرتے ہیں۔

ایس ایس جی سی کے آئندہ منصوبے کیا ہیں؟

ایس این جی پی ایل کی طرح، ایس ایس جی سی کے مستقبل کے منصوبے بھی غیر حسابی گیس کم کرنے اور درآمد شدہ آر ایل این جی کے انضمام پر مرکوز ہیں، خاص طور پر کراچی کی گنجان بستیوں میں۔

ایس ایس جی سی کا بل کیسے ادا کریں؟

ادائیگی کے طریقے

JazzCash
Easypaisa
Bank App
ATM
Over the Counter
ہیلپ لائن: 1199
آفیشل ویب سائٹ

میٹر یا بل کی شکایت درج کرائیں

ایس ایس جی سی سمیت تمام پی آئی ٹی سی ڈسکوز کی شکایات ایک ہی مرکزی نظام (CCMS) کے ذریعے درج ہوتی ہیں۔ آپ ریفرنس نمبر، رابطہ نمبر یا شناختی کارڈ سے اپنا اکاؤنٹ تلاش کر سکتے ہیں۔

فارم میں نام، موبائل نمبر (923xxxxxxxxx کی شکل میں)، شناختی کارڈ، پتہ اور قریبی نمایاں مقام درکار ہوتا ہے، اس کے علاوہ شکایت کی نوعیت اور قسم۔ شکایت نمبر ضرور محفوظ رکھیں — آگے کے تمام مراحل اسی پر منحصر ہیں۔

شکایت درج کریں1199ایس ایس جی سی شکایات

دھوکہ بازوں کو ادائیگی نہ کریں۔ کوئی بھی کمپنی فون پر ادائیگی، او ٹی پی یا کسی ذاتی اکاؤنٹ میں رقم نہیں مانگتی۔ کنکشن کاٹنے کی دھمکی دے کر فوری ادائیگی کا مطالبہ فراڈ کی سب سے عام شکل ہے۔ ادائیگی ہمیشہ بینک، اے ٹی ایم یا منظور شدہ والٹ کے ذریعے کریں۔

ایس ایس جی سی کے بلوں سے متعلق عام سوالات

میں ایس ایس جی سی کا بل آن لائن کیسے چیک کروں؟

اپنے پچھلے بل پر درج کسٹمر نمبر اوپر دیے گئے خانے میں لکھیں۔ ایس ایس جی سی کا کسٹمر نمبر 10 ہندسوں کا ہوتا ہے۔ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں — بل براہ راست ایس ایس جی سی کے سرکاری سسٹم سے آتا ہے۔

ایس ایس جی سی کے بل پر اس نمبر کو کیا کہا جاتا ہے؟

ایس ایس جی سی اسے "کسٹمر نمبر" کہتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ بجلی کے بل پر اسی خانے کو "ریفرنس نمبر" کہا جاتا ہے، اور دونوں گیس کمپنیاں بھی مختلف اصطلاحات استعمال کرتی ہیں — ایس این جی پی ایل اسے کنزیومر نمبر کہتی ہے۔ نمبر بل کے اوپری حصے میں چھپا ہوتا ہے۔

ایس ایس جی سی کن علاقوں کو گیس فراہم کرتی ہے؟

ایس ایس جی سی سندھ اور بلوچستان میں گیس فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کا گیس نیٹ ورک دو کمپنیوں میں تقسیم ہے، اس لیے آپ کا علاقہ ہی طے کرتا ہے کہ آپ کو کون سی کمپنی سروس دے گی۔

سردیوں میں گیس کا دباؤ کیوں کم ہو جاتا ہے؟

سردیوں میں ہیٹنگ اور گیزر کا استعمال پورے نیٹ ورک پر بیک وقت بڑھ جاتا ہے، جس سے صبح اور شام کے اوقات میں دباؤ گر جاتا ہے۔ یہ پورے نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، آپ کے کنکشن کا نہیں، اور اس سے آپ کے بل کے یونٹس متاثر نہیں ہوتے۔ ایس ایس جی سی کا نیٹ ورک اصل سوئی فیلڈ اور کراچی کے ایل این جی ٹرمینلز کے قریب ہے، مگر سردیوں میں گھریلو مانگ بڑھنے پر دباؤ یہاں بھی متاثر ہوتا ہے۔

ایس ایس جی سی کے بل پر سلیب کیسے کام کرتے ہیں؟

گیس کی بلنگ سلیب کی بنیاد پر ہوتی ہے اور اوگرا (OGRA) ریٹ مقرر کرتی ہے، ایس ایس جی سی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ زیادہ استعمال پر پورا بل اوپر والے سلیب کے ریٹ پر آ سکتا ہے، اس لیے سلیب کی حد تھوڑی سی عبور کرنے پر بھی بل میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گیس پر جی ایس ٹی 18% لاگو ہوتا ہے۔

ایس ایس جی سی کو شکایت کیسے درج کرائیں؟

پہلے ایس ایس جی سی کی ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کریں یا اپنے قریبی کسٹمر فیسیلیٹیشن سینٹر جائیں اور شکایت نمبر لیں۔ حل نہ ہونے کی صورت میں معاملہ اوگرا کے پاس لے جایا جا سکتا ہے، جو گیس کے شعبے کا ریگولیٹر ہے، یا پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔